نعت نگاری میں اقبال اور حالی کا مقام

معروف دانشور جناب احمد جاوید کی ایک گفتگو کا بامحاورہ متن یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

اردو نعت کا مزاج اور علامہ اقبال کا مقام

؏ بمبدائے آبِ یمن رنگ تیرے محیط میں حباب

پوری نعتیہ شاعری میں آپ کو ایسا مصرع، اتنا بڑا تصور، اور ایسا شاندار لفظی و صوتی پیکر شاید ہی ملے۔ اس کے لحن، آواز، اور بصری تصویر کاری کو دیکھیے، پھر ان الفاظ کے بطن سے جو معانی اور جذبات ابھرتے ہیں ان پر غور کیجیے؛ یہ ہر لحاظ سے — یعنی معنی، جوش، صوتیت اور امیجری میں — بے نظیر شعر ہے۔ نعت میں جتنے اعلیٰ مضامین، جذبے کی شدت، اور بلندیِ تخیل اقبال کے ہاں دکھائی دیتی ہے، وہ اردو نعت نگاری میں عمومی طور پر ناپید ہے۔ علامہ اقبال نے جس طرح عالی شان فکر اور شدید جذباتی وابستگی کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے، اس کی مثال میر انیس کے ہاں بھی نہیں ملتی۔

بعض نعتیہ کلام دیکھ کر صاف محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت، رحمت، اور تعلقِ خاطر کا وہ حقیقی لمس نصیب نہیں ہوا جو نعت کا اصل جوہر ہے۔ شاعر جتنی زیادہ تصنع اور تکلف سے کام لیتا ہے، اس کا کلام اتنا ہی حقیقی حمد و ثنا کی اصل گہرائی سے خالی ہوتا جاتا ہے۔ لوگ محض لفظی ساخت سے دل کو تسلی دے لیتے ہیں، حالانکہ نعت کا اصل پہلو وہ ادراک ہے جو انسان کے قلب کو چھو جائے۔

عزتِ نفس، بے تکلفی، تعظیم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا خصوصی خیال رکھتے تھے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے سامنے بھی اپنی عزتِ نفس اور وقار کو برقرار رکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی عاجزی یا بے جا جھکنے کے ان مراسم کو سختی سے ناپسند فرمایا جو شخصیت پرستی کی حدوں کو چھوئیں؛ جیسے اپنے سامنے بلا وجہ کھڑے رہنے سے منع فرمایا۔ صحابہ کے ساتھ آپ کا ایک بے تکلف اور شفقت بھر تعلق تھا۔ البتہ جب آپ کلام فرماتے تو صحابہ پر ایسی ادب و ہیبت کی کیفیت طاری ہوتی گویا ان کے کندھوں پر پرندے آ بیٹھے ہوں لیکن وہ ذرا سی جنبش نہ کر رہے ہوں۔ تعظیم اور ادب کی یہ متوازن کیفیت اور عاشقانہ احوال، جو تاریخ و سیرت میں ملتے ہیں، وہ ہماری روایتی اردو نعتوں میں کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔

اگر حضرت فاطمہ الزہراء یا حضرت علی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم کے مراثی یا منظوم احوال کو دیکھا جائے تو ان میں بلا کا خلوص اور سادگی ملتی ہے۔ جیسے بی بی فاطمہؓ کا وہ مرثیہ کہ ’’ہم پر وہ غم ٹوٹ پڑے کہ دن بھی اندھیرے ہو گئے‘‘ — اس میں کوئی شاعرانہ مبالغہ آرائی نہیں، بلکہ جذبے کی ایک خالص ترین سطح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا اثر مبالغہ آمیز نعتیہ اشعار کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

دبستانِ دکن، دہلی اور لکھنو کا نعتیہ سفر

تاریخی اعتبار سے جن لوگوں کا خانقاہی نظام یا قوالی کے ماحول سے زیادہ تعلق نہیں تھا، انھوں نے سنجیدہ اور اعلیٰ درجے کی ادبی نعتیں تخلیق کیں۔ دکنی شاعری میں سراج اورنگ آبادی اور دیگر شعراء کے ہاں انتہائی بلند پایہ نعتیں ملتی ہیں۔ اسی طرح سودا کے قصائد اور دیگر اساتذہ کا کلام اس بات کا ثبوت ہے کہ ادبی نعت کی ایک مضبوط روایت موجود رہی ہے۔

بعد میں یہ روایت دبستانِ دہلی اور دبستانِ لکھنؤ تک پہنچی۔ ذوق نے بڑی شان و شوکت اور شِکُوہ کے ساتھ نعتیہ قصائد لکھے۔ لکھنؤ میں سنجیدہ اور معیاری ادبی نعت ذرا دیر سے پہنچی، جبکہ دہلی میں دکن کے راستے یہ روایت بہت پہلے وارد ہو چکی تھی۔ محسن کاکوروی کو لکھنوی دبستان کی ادبی نعت کا امام اور سربراہ کہا جا سکتا ہے۔ ان کے کلام کا کمال یہ ہے کہ وہ لکھنوی زبان اور مقامی اسلوب کو چھپائے بغیر پوری ادبی شان سے ظاہر کرتے ہیں۔ میر انیس کے بعد لکھنوی اسلوب اور ایکسپریشن کو جس کامیابی اور تناسب کے ساتھ نعت میں برقرار رکھا گیا، وہ محسن کاکوروی ہی کا حصہ ہے۔

اقبال و حالی کا فکری اسلوب بمقابلہ استادانہ تصنع

لکھنؤ کے روایتی اساتذہ، غالب کی فارسی تشبیہات، اور ذوق وغیرہ کے نعتیہ کلام میں بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ ساری توجہ استادی دکھانے، محاورہ بندی کے کمالات ظاہر کرنے، اور زبان دانی کی گنجائشیں نکالنے پر صَرف ہوئی ہے۔ لکھنوی شاعری کا ایک مزاج یہ بھی رہا ہے کہ وہ دعوے کے ساتھ شروع ہوتی ہے—گویا نقادوں کو چیلنج دیا جا رہا ہو کہ کوئی لغوی یا عروضی غلطی نکال کر دکھائے۔ اس استادانہ مقابلے کی وجہ سے کلام میں وہ خالص جذبہ اور سوز کم ہو جاتا ہے اور ساری توجہ کرافٹ (صنائع بدائع) پر مرکوز رہتی ہے۔

اس کے برعکس، ایک اور بالکل منفرد روایت ہے جس کی جڑیں فارسی میں ہیں اور اس کی سب سے بڑی مثال علامہ اقبال ہیں۔ اقبال نے مروّج مفہوم کے مطابق مخصوص عنوانات کے تحت الگ سے نعتیں کم ہی لکھی ہیں، لیکن ان کا پورا نعتیہ کلام ان کی غزلوں اور مفکرانہ نظموں کے اندر جابجا بکھرا ہوا ملتا ہے۔ اردو میں اقبال کا یہ نعتیہ مقام ایک 'تنہا مینار' کی مانند ہے۔ دیگر شاعر بھی ہیں جنہوں نے نعتیہ شاعری میں اچھا کام کیا ہے جیسے اقبال سہیل لکھنؤ کے ایک اچھے شاعر تھے جنہوں نے عمدہ نعتیہ کلام لکھا ہے۔ جبکہ الطاف حسین حالی تو اس معاملے میں علامہ اقبال کے پیشرو ہیں، جنہوں نے اپنے کلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ بشریت، آپؐ کے محسنِ انسانیت ہونے، اور آپ کے اخلاقی پہلوؤں کو اس خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے کہ ان کی بھی کوئی نظیر نہیں ہے۔ جبکہ حالی کا کام علامہ اقبال پر آ کر مکمل ہوا ہے۔ 

www.fb.com/share/v/1DXwnFj9eg


اقسام مواد

خلاصہ جات, شعر و ادب