مصنوعی ذہانت کے دور میں ویب سائیٹس کا مستقبل
اِس وقت انٹرنیٹ پر ڈیڑھ ارب کے قریب ویب سائٹس موجود ہیں مگر ان میں سے تقریباً 85 فیصد غیر فعال ہیں؛ اور جو فعال ہیں ان میں سے بھی صرف 1 فیصد ایسی ہیں جو صحیح معنوں میں کمائی کرتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر ویب سائٹس محض ایک بروشر کی طرح ہیں، جن میں گاہک کے دیکھنے کے لیے تو کچھ نہ کچھ ہے لیکن خریداری کے لیے کوئی واضح ذریعہ یا راستہ موجود نہیں ہوتا۔ بالکل ایسے ہی جیسے میرے علاقے بالی میں ہر روز نئے کیفے کھلتے ہیں، جن میں سے چند ایک ہمیشہ گاہکوں سے بھرے رہتے ہیں جبکہ زیادہ تر کیفے اچھے ذائقے کے باوجود خالی رہتے ہیں اور جلد ہی بند ہو جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ کامیاب کیفے کے پاس گاہک کا پیسہ خرچ کروانے کے لیے کئی طرح کے مختلف راستے یا کلیکشن پوائنٹس ہوتے ہیں، جبکہ ناکام کیفوں کے پاس ایسے پوائنٹس کچھ زیادہ نہیں ہوتے۔ چنانچہ ہر کاروبار کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ آج کے دن کوئی گاہک اس سے کیا خرید سکتا ہے، اور جو گاہک ابھی خریداری کے لیے تیار نہیں ہے وہ مفت میں کیا حاصل کر سکتا ہے، اور جو پہلے خرید چکا ہے اسے آگے کیا پیش کیا جا سکتا ہے۔
میرے دوست نسیم طالب کے مطابق انٹرنیٹ اب ایک ایسی دنیا بن چکا ہے جہاں چند بڑے پلیٹ فارمز سب کچھ اپنی طرف لے جاتے ہیں۔ گوگل پر کی جانے والی ہزاروں تلاشوں میں سے ایک بڑا حصہ بغیر کسی کلک کے ختم ہو جاتا ہے، اور مصنوعی ذہانت اب روایتی لنکس مہیا کرنے کی جگہ خود ہی مکمل جواب دے کر لوگوں کی ضروریات پورا کر رہی ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر صرف فالوورز یا لائکس کا ہونا ایک طرح سے ڈیجیٹل بے گھری ہے؛ کیونکہ وہاں اکاؤنٹ، ڈیٹا اور گاہکوں کے ساتھ تعلق دراصل اُن پلیٹ فارمز کی ملکیت ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ڈیجیٹل خودمختاری یہ ہے کہ آپ کی اپنی ویب سائٹ اور ای میل فہرست ہو، جہاں اپنے گاہکوں کے ڈیٹا اور رابطے کا مکمل کنٹرول آپ کے پاس ہو۔
ایک مکمل اور منافع بخش ڈیجیٹل خودمختاری کا نظام پانچ بنیادی سطحوں پر استوار ہوتا ہے:
- پہلی سطح ایک بہترین پیشکش ہے جو گاہک کے فوری مسئلے کا حل فراہم کرتی ہو۔
- دوسری سطح وہ مؤثر تحریر ہے جو گاہک کے ذہن میں چلنے والی گفتگو کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر پروڈکٹ کی اصل قدر واضح کرے۔
- تیسری سطح مواد اور ٹریفک ہے، جس میں مفت آنے والی اور اشتہارات کے ذریعے آنے والی دونوں قسم کی ٹریفک یکساں اہمیت رکھتی ہیں، لیکن اصل پائیدار سرمایہ آپ کی اپنی ای میل فہرست ہے جو آمدنی کا بڑا حصہ پیدا کرتی ہے۔
- چوتھی سطح مخصوص لینڈنگ پیجز ہیں، کیونکہ ویب سائیٹ کا ہوم پیج دکان کا صرف مرکزی دروازہ ہوتا ہے، جبکہ اصل فروخت اُن لینڈنگ پیجز کے ذریعے ہوتی ہے جو گاہک کو ایک واضح فیصلہ کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔
- پانچویں سطح ایک خودکار راستہ ہے جو ایسے لوگوں کو مرحلہ وار اعتماد اور معلومات فراہم کر کے گاہک میں تبدیل کرتی ہے جو فوری طور پر خریدنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
مصنوعی ذہانت کے اس جدید دور میں صرف ویب سائٹ ہونا کافی نہیں، بلکہ ویب پر آپ کے برانڈ کا مسلسل اور کثرت سے ذکر ہونا ضروری ہے، کیونکہ الگورتھم اب بیک لنکس (دیگر ویب سائیٹس میں موجود آپ کی ویب سائیٹ کے لنکس) سے زیادہ آپ کے برانڈ نیم کے پھیلاؤ کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس کا ایک اہم راستہ یہ ہے کہ آپ گاہکوں کے پوچھے گئے سوالات کے عوامی طور پر مسلسل جوابات دے کر اپنے شعبے میں ایک اتھارٹی بن سکتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی سروسز بھی آپ کے برانڈ کو تجویز کرنے لگ جاتی ہیں۔ لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اے آئی آپ کو فارمولا ون جیسی تیز ترین گاڑی تو دے سکتا ہے، مگر اسے چلانے کی مہارت آپ کو خود ہی حاصل کرنا ہوگی۔ ایک کامیاب اور خودمختار ڈیجیٹل بزنس کا قیام کوئی شارٹ کٹ نہیں بلکہ مسلسل مشق، آزمائش اور غلطیوں سے سیکھا جانے والا ایک طویل مدتی ہنر ہے، جہاں نظام کی کامیابی کا انحصار ہمیشہ اسے چلانے والے کی اپنی صلاحیت پر ہوتا ہے۔
