الفاظ کے بدلنے کا سفر
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کسی کا نام محض ایک پکار سے بڑھ کر ایک پوری تاریخ، ایک ثقافت اور بعض اوقات ایک دلچسپ غلط فہمی کا داستان گو بن سکتا ہے؟ ہمارے اردگرد بہت سے نام ایسے بولے جاتے ہیں جن کی تہہ میں صدیوں کے سفر کی کہانیاں چھپی ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک دل چسپ کہانی عربی ناموں کے لاحقے ’’عبد’’ اور انگریزی لفظ ’’ایڈمرل’’ کی ہے۔ آئیے اس لسانی سفر پر نکلتے ہیں!
جب ہم ناموں پر نظر ڈالتے ہیں تو کانوں میں ’’عبدالکریم’’ یا ’’عبداللطیف’’ جیسے نام گونجتے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ’’عبد’’ کوئی ایک مخصوص نام ہے جو کسی دوسرے لفظ کے آگے لگا دیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ عربی زبان میں ’’عبد’’ کا مطلب ہے بندہ یا غلام، اور اس کے ساتھ جڑنے والا ’’ال’’ (Al) دراصل انگریزی کے ’’The’’ کی طرح تعریف یا اضافت کے لیے آتا ہے۔ اس طرح اصل ساخت کسی ذات یا صفت سے جڑی ہوتی ہے — یعنی ’’…کا بندہ‘‘۔
اسلامی ثقافت میں اللہ تعالیٰ کے ننانوے صفاتی ناموں کے ساتھ ’’عبد’’ کو ملا کر نام رکھنے کی روایت بہت پرانی ہے۔ مثلاً اللہ کے صفاتی نام ’’الکریم’’ (سب سے زیادہ سخی) یا ’’العزیز’’ (سب سے زیادہ طاقتور) کے ساتھ جب ’’عبد’’ ملتا ہے تو یہ بن جاتا ہے ’’عبدالکریم’’ (سخی کا بندہ) یا ’’عبدالعزیز’’ (عزیز و غالب کا بندہ)۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوا جب اسلام عرب دنیا کی حدود سے نکل کر باہر کی دنیا میں پھیلا۔ غیر عرب مسلمانوں کے لیے عربی زبان اجنبی تھی، لیکن وہ عربی ناموں کی روحانیت سے شدید متاثر تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ معاشرے میں کچھ لوگ ’’کریم’’ یا ’’لطیف’’ کے نام سے پکارے جا رہے ہیں، اور کچھ لوگ ’’عبدالکریم’’ یا ’’عبداللطیف’’ کے نام سے۔ عربی زبان کے اصولوں سے ناواقفیت کی وجہ سے انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ’’عبد’’ ایک آزاد نام یا پریفکس (Prefix) ہے جو کسی بھی نام کے شروع میں جوڑ دیا جاتا ہے۔
لسانیات (Linguistics) میں اس عمل کو ’’ری بریکٹنگ’’ (Rebracketing) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی لفظ بولنے یا سننے میں کچھ حصوں میں تقسیم ہوتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نسلیں اسے کسی اور ہی طریقے سے تقسیم شدہ مان لیتی ہیں — بالکل ویسے ہی جیسے کسی خوبصورت عمارت کی بنیادوں کو بدل کر اس کی چھت کو بنیاد سمجھ لیا جائے۔
صرف ’’عبد’’ ہی نہیں، ’’ایڈمرل’’ کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ یہ لسانی ہیر پھیر صرف عربی ناموں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے انگریزی زبان کو بھی متاثر کیا۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بحریہ کے سب سے بڑے عہدے کا نام ’’ایڈمرل’’ (Admiral) کہاں سے آیا؟ اس کا رشتہ بھی قرون وسطیٰ کے عربی بحری نظام سے جڑا ہے۔ عرب بحری افسران اپنے عہدوں کے لیے خوبصورت تراکیب استعمال کرتے تھے، جیسے ’’امیر البحار’’ (سمندر کا کمانڈر) یا ’’امیر الماء’’ (پانی کا کمانڈر)۔ یہاں ’’امیر’’ کا مطلب کمانڈر یا سردار تھا، اور ساتھ میں ’’البحار’’ یا ’’الماء’’ جڑا ہوا تھا۔ جب یورپی ملاحوں اور جہاز رانوں نے ان عرب افسران سے ملاقات کی اور ان کے طویل القابات سنے، تو وہ بھی عربی زبان کی باریکیوں کو سمجھ نہ پائے۔ انہوں نے ’’امیر’’ کو ’’ال’’ کے ساتھ ملا کر ایک نیا ہی لفظ گھڑ لیا اور یوں صدیوں کے سفر کے بعد ’’امیر البحر’’ بگڑتے بگڑتے انگریزی کا مشہور لفظ Admiral بن گیا۔
زبانیں دریا کی طرح ہوتی ہیں — وہ چلتی ہیں، راستے بدلتی ہیں، اور دوسرے کلچرز کے ساتھ مل کر نئے رنگ ڈھنگ اختیار کرتی ہیں۔ ’’عبد’’ سے لے کر ’’ایڈمرل’’ تک کا یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ الفاظ صرف بولنے کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ وہ انسانوں کے میل جول، ثقافتوں کے تبادلے اور تاریخی غلط فہمیوں کے ایسے زندہ آثار ہوتے ہیں جو صدیوں بعد بھی ہمیں مسکرانے پر مجبور کر دیتے ہیں!
