الفاظ میں دوہرے تلفظ کی گنجائش
السلام علیکم! قرآن کریم کی سورۃ الروم میں ایک لفظ آیا ہے جو اردو میں بھی مستعمل ہے۔ یہ کمزوری کے معنی میں ہے اور اسی سے ضعیف لفظ بھی ہے۔ قرآن میں یہ لفظ ہے ضَعف اور ضُعف۔ قرآن کے صفحات جہاں ختم ہوتے ہیں وہاں کچھ ہدایات اور تنبیہات وغیرہ ہوتی ہیں، اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ جو لفظ ہے ضعف، اس کو دو طریقوں سے پڑھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ اس کو آپ دونوں ہی تلفظ سے ادا کر سکتے ہیں، زبر کے ساتھ بھی اور پیش کے ساتھ بھی۔
«اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ»
(اللہ ہی ہے جس نے تمہیں کمزور پیدا کیا، پھر تمہیں کمزوری کے بعد قوت بخشی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا)
البتہ شرط یہ ہے کہ اگر آپ نے پہلے لفظ کو زبر کے ساتھ ادا کیا ہے تو باقی دونوں کو بھی آپ زبر کے ساتھ ہی ادا کریں گے، اگر آپ نے پہلے لفظ کو پیش کے ساتھ ادا کیا ہے تو باقی دونوں کو بھی آپ پیش کے ساتھ ہی ادا کریں گے۔ عربی زبان میں، جس میں قرآن نازل ہوا، یہ دو شکلوں میں مستعمل ہے اور دونوں ہی صحیح ہیں، یعنی ضَعف اور ضُعف۔
ہمارے ہاں اردو زبان میں تلفظ کے حوالے سے یا اِملا کے حوالے سے یا قواعد کے حوالے سے اتنی شدت پسندی ہے کہ ہم یہ قبول کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ ایک لفظ کی دو شکلیں ہو سکتی ہیں، دو تلفظ ہو سکتے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے میں ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ مَٹی غلط ہے اور مِٹی صحیح ہے، حالانکہ دونوں ہی صحیح ہیں۔ سَمت ہے یا سِمت ہے؟ ضَروری ہے یا ضُروری ہے؟ یہ سوال ہی غلط ہے۔ یہ الفاظ وہ ہیں جن کے دونوں تلفظ رائج ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں۔
ایک بہت بڑی ڈکشنری ہے ’’اردو لغت‘‘ کے نام سے، تاریخی لغت ہے، جس میں بڑی خوشی کی بات ہے کہ دونوں ہی تلفظ کو جگہ دی گئی ہے: ضَروری بھی آپ کو ملے گا اور ضُروری بھی ملے گا، یعنی ضاد پر زبر بھی ہے اور پیش بھی ہے۔ حالانکہ عربی زبان میں پیش نہیں ہے، ضَروری زبر کے ساتھ ہی مستعمل ہے، لیکن چونکہ اردو والوں نے پیش کے ساتھ بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے لہٰذا اس کو صحیح مانا جائے گا۔ اسی طرح سے لفظ زبان کا مسئلہ ہے۔
یہ سارے الفاظ ایسے ہیں جن میں دونوں ہی صورتیں صحیح ہیں۔ چنانچہ ہمیں رواداری کا ثبوت دینا چاہیے کیونکہ جب ہماری لسانی اور ادبی میراث میں یہ دونوں شکلیں موجود رہی ہیں تو کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط قرار دے دے۔
