پاکستان کے مجموعی مسائل کی بنیادی وجہ
پاکستان کو درپیش متعدد بحرانوں—چاہے وہ دہشت گردی ہو، دھرنے اور ہڑتالیں ہوں، بدعنوانی (کرپشن) ہو یا نااہلی—کے پسِ منظر میں یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ آخر ان تمام مسائل کی کوئی ایک بنیادی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ اس پیچیدہ سوال پر اگر ہٹ کر غور کیا جائے تو ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے: پاکستانی عوام کے ذہنوں میں دنیا کا جو نقشہ یا تصوّر (Worldview) قائم ہے، وہ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
دنیا کے حالات کا درست نقشہ
انسان کے فیصلے اور رویے دنیا کی اصل صورتِ حال کے بجائے اس کی ذہنی تصویر کی بنیاد پر بنتے ہیں۔ اگر یہ ذہنی نقشہ ہی غلط ہو تو فیصلے بھی لازماً غلط ہوں گے۔ مثال کے طور پر، پاکستان سے باہر منتقل ہونے کے بارے میں اگر دو مختلف افراد سے مشورہ لیا جائے تو ان کی رائے بالکل متضاد ہوگی:
- وہ شخص جو بیرونِ ملک آسانی سے سیٹل ہوا اور جسے نسل پرستی یا امیگریشن کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا، وہ آپ کو فوراً وہاں جانے کا مشورہ دے گا۔
- اس کے برعکس وہ شخص جسے تعصب، قانونی دشواریوں یا مالی بحران سے گزرنا پڑا، وہ اسے انتہائی مشکل قرار دے گا۔
دنیا ایک ہی ہے، لیکن مختلف تجربات کی بنا پر لوگوں کے ذہنوں میں اس کے الگ الگ نقشے بن جاتے ہیں اور وہ انہی کی روشنی میں فیصلے کرتے ہیں۔
ذہن سازی میں تعلیم، تجربات اور اساتذہ کا کردار
انسان کے ذہن میں دنیا کا نقشہ اس کی تعلیم اور تجربات سے تشکیل پاتا ہے۔ ہمارے ہاں تعلیم کا حال یہ ہے کہ ہزاروں اقسام کے تعلیمی ادارے قائم ہیں، جن میں سے اکثر نے قومی و ملکی مفاد کے بجائے ذاتی یا گروہی مفادات کو مدِنظر رکھ کر اپنے من پسند نصاب بنا رکھے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے قومی و اجتماعی تجربات بھی انتہائی تلخ رہے ہیں، جہاں سب سے بڑا چیلنج انسان کے لیے اپنے اندر کی اچھائی کو زندہ رکھنا بن چکا ہے۔
تعلیم اور تجربے کے اس مجموعے سے جو علم اور طرزِ فکر پیدا ہوتا ہے، اس کی تشکیل میں سب سے اہم کردار استاد کا ہوتا ہے۔ یہاں استاد سے مراد صرف اسکول میں پڑھانے والا معلم نہیں، بلکہ ہر وہ فرد ہے جو کسی بھی حیثیت میں دوسروں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ والدین اپنے بچوں کے استاد ہیں، بڑے بہن بھائی اپنے سے چھوٹوں کے استاد ہیں، سیاسی رہنما اپنی جماعت کی نچلی قیادت اور کارکنوں کے استاد ہیں، دینی رہنما اپنے پیروکاروں کے استاد ہیں، اور سینئر کھلاڑی اپنے جونیئرز کے استاد ہوتے ہیں۔ ان تمام اساتذہ کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے زیرِ تربیت افراد کے ذہنوں میں دنیا کا ایسا نقشہ بنائیں جو حقیقت کے قریب ترین ہو۔ تاہم، یہ تبھی ممکن ہے جب خود استاد کا اپنا ذہنی نقشہ درست ہو۔
اس تناظر میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ "جنت ماں کے قدموں تلے ہے"، تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ماں کا ہر جائز و ناجائز حکم ماننے سے انسان جنت کا مستحق بن جاتا ہے۔ ایسے واقعات بھی موجود ہیں جہاں بعض ماؤں نے بچوں کو غلط راستے پر ڈالا، رشوت یا ناجائز ذرائع سے معاشی معیار بلند کرنے پر مجبور کیا۔ دراصل ماں کو یہ مقام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ وہ بچے کی پہلی استاد ہوتی ہے۔ اگر وہ بچے کے ذہن میں دنیا کی صحیح اور حقیقت پسندانہ تصویر قائم کرے گی تو بچہ دانشمندانہ فیصلے کر کے کامرانی اور جنت کا حقدار بنے گا، جبکہ غلط تربیت کی صورت میں اس کا انجام برعکس ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں یا تو والدین کی تربیت پر توجہ دی جاتی ہے تاکہ وہ اچھے استاد بن سکیں، یا پھر پری اسکولنگ (Pre-schooling) کے ذریعے بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے منظم تعلیمی ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔
کردار، سچائی اور تاریخی درستگی کی اہمیت
لوگ باتوں اور تقریروں سے نہیں بلکہ عملی کردار سے سیکھتے ہیں۔ لِیو ٹالسٹائے (Leo Tolstoy) کا قول ہے کہ
"مجھے اپنا مذہب تقریر سے نہ سمجھاؤ بلکہ اپنے کردار سے دکھاؤ۔"
ہمارے ہاں صحیح اور حقیقت پسندانہ سوچ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ 'خوف' ہے۔ ہمارا پورا معاشرتی اور تعلیمی نظام — گھر سے لے کر اسکول اور ریاست تک — خوف اور ڈراوے پر قائم ہے۔ ریاست کے پاس بھی ہر مسئلے کا حل محض خوف اور جبر کا استعمال ہی دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان میں توہینِ رسالت اور توہینِ مذہب کے قوانین تو موجود ہیں، لیکن دوسری طرف ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولین سنتیں صداقت اور امانت تھیں۔ آج ہمارے معاشرے میں صداقت اور امانت کا شدید فقدان ہے اور منافقت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو بھی ذاتی اور گروہی مفادات کے تحت تحریف کر کے لکھتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید میں تاریخ پر اسی لیے زور دیا گیا ہے تاکہ انسان ماضی کی قوموں کے راستوں اور ان کے نتائج سے سبق حاصل کرے۔ قوموں کی کامیابی یا تباہی اللہ کے طے شدہ قوانین اور اصولوں کے تحت ہوتی ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔
حقیقی ترقی کے تقاضے
پاکستان کی حقیقی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر بعد کے تمام تاریخی حقائق کو سچائی کے ساتھ لکھنا اور قوم کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ جب ہم اپنے بچوں کو سچے حقائق، درست تاریخ اور عالمی حالات سے آگاہ کریں گے، تب ہی ان کے ذہنوں میں دنیا کا درست نقشہ بنے گا۔ اسی روشن فکری کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے ملک کو واقعی ترقی اور کامرانی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔
